چین کے نزدیک امریکی دھمکیوں کی کوئی حیثیت نہیں /ملکی حکام ایرانی تیل برآمدات کو جاری رکھنے کیلئے پُرعزم ہیں
چینی تجزیہ کار:
نیوزنور10جولائی/توانائی صنعت سے وابستہ ایک چینی تجزیہ کار نے کہا ہے کہ چین کے نزدیک امریکی صدر کی باتیں اور دھمکیوں کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ چین ایران سے تیل کی خریداری کو جاری رکھے گا۔
عالمی اردو خبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق چینی خبر رساں ادارے یی سی کیساتھ ایک انٹریو میں انرجی سروسز کمپنی کے مالک ’’جان درکسال‘‘نے کہا کہ چین کے نزدیک امریکی صدر کی باتیں اور دھمکیوں کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ چین ایران سے تیل کی خریداری کو جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ چین کو امریکی دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں بلکہ وہ بھارت کے ساتھ مل کر ایران سے تیل درآمدات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
جان درکسال جس کی کمپنی گزشتہ 4 دہائیوں سے انرجی سروسز کی فراہمی پر کام کر رہی ہےنے کہا کہ بھارت، چین، جنوبی کوریا اورجاپان امریکی اہداف میں شامل اہم ممالک ہیں مگر یہ ممالک اپنے مستقل مفادات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا اورجاپان دباؤ کو برداشت تو نہیں کرسکتے لہذا وہ یقینا امریکی پابندیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے بارگنینگ کررہے ہوں گے۔
ماہر امور توانائی نے کہاکہ چین اور بھارت امریکہ دھمکیوں کو سنجیدہ نہیں لیں گے بلکہ وہ اپنا بڑا تجارتی پارٹنر یعنی کہ ایران سے تیل کی خریداری کو جاری رکھیں گے۔
دریں اثنا آئی ایچ ایس مارکیٹ انسٹی ٹیوٹ کے سنیئر رکن وکٹر شوم نے بھی کہا کہ چین کو تیل کی بہت زیادہ ضرورت ہے لہذا وہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایرانی تیل کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ پیچھے ہٹیں کیونکہ انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ ایران پر عالمی سطح کی پابندیاں لگانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔