نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
محبوب ترین مضامین
تازہ ترین تبصرے
  • ۱۱ ژانویه ۱۹، ۱۴:۱۱ - گروه مالی آموزشی برادران فرازی
    خیلی جالب بود


نائجیریا کی بائیورو یونیورسٹی پروفیسر:

 نیوزنور03جنوری/ نائجیریا کی بائیورویونیورسٹی کے ایک سینئر پروفیسر نے کہا ہے کہ اسلامی تحریک نائجیریا کے سربراہ آیت اللہ شیخ ابراھیم زکزکی نائیجیریا کی ایک ایسی واحد شخصیت ہیں کہ جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف سامراجی طاقتوں کےمنصوبوں اورسازشوں کو بے نقاب کیا ہے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق  ایک انٹرویو میں ’’دوڈا نالو‘‘نےکہاکہ اسلامی تحریک نائجیریا کے سربراہ آیت اللہ شیخ ابراھیم زکزکی نائیجیریا کی ایک ایسی واحد شخصیت ہیں کہ جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف سامراجی طاقتوں کےمنصوبوں اورسازشوں کو بے نقاب کیا ہے۔

انہوں نے نائجیریا کے شیعہ مسلمانوں پر فوج کے وحشیانہ کریک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہوئےکہاکہ عالمی سامراجی طاقتیں اسلامی تحریک نائجیریا کے سربراہ شیخ آیت اللہ زکزکی کے بڑھتے اثرورسوخ کو اپنی تسلط پسندی کے خلاف بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ نائجیریا کے شیعہ مسلمانوں کے قتل عام میں نائجیریا کی حکومت اور ان کی حامی شیطانی طاقتیں امریکہ ،اسرائیل،سعودی عرب اوربرطانیہ ملوث ہیں۔

انہوں نے کہاکہ آیت اللہ شیخ زکزکی نائجیریا کی ایسی واحد شخصیت ہے کہ جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف سامراجی وطاغوتی قوتوں کی سازشوں کو بے نقاب کیا اس لئے یہ طاقتیں ان کی جان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نےمزید کہاکہ نائجیریا اوردیگر افریقی ممالک میں آیت اللہ شیخ ابراھیم زکزکی  کی بڑھتی مقبولیت اور ان کے اثرورسوخ سے سامراجی قوتیں  خوفزدہ ہیں۔

واضح رہے کہ نائجیریا کی فوج نے 12 اور13دسمبر 2015ء کو چہلم امام حسین ؑ کے موقعے پر زاریہ شہر میں ایک امام بارگاہ اور آیت اللہ شیخ ابراھیم زکزکی کے گھر پر حملہ کرکے ہزاروں شیعہ مسلمانوں کو شہید اورزخمی کردیاتھا۔

فوج آیت اللہ شیخ ابراھیم زکزکی اور ان کی اہلیہ کو زخمی کرنے کے بعد گرفتار کرکے لے گئی تھی جس کے بعد سے جیل میں آیت اللہ زکزکی کی جسمانی حالت تشویشناک بتائی جاتی رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ نائجیریا کی فوج کے اس حملے میں آیت اللہ زکزکی کے تین بیٹے بھی شہید ہوئےتھے۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی