جمال خاشقچی کے مسئلے پر بن سلمان کا دائرہ حیات ہر گذرتے دن کےساتھ تنگ ہوتا جارہا ہے
ترک حزب اختلاف کے سربراہ:
نیوزنور21نومبر/ترکی کے سینئر سیاستدان اور ٹی ایم پی سیاسی جماعت کے سربراہ نے سعودی ولی عہد بن سلمان کو دہشتگردوں کا سرغنہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ رجب طیب اردغان کےپارٹی کے بعض اراکین خاشقچی کے قتل کے کیس میں بن سلمان کے کردار پر پردہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔
عالمی اردو خبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق ’’باجلی‘‘نے سعودی ولی عہد بن سلمان کو دہشتگردوں کا سرغنہ قراردیتے ہوئے کہا کہ رجب طیب اردغان کےپارٹی کے بعض اراکین خاشقچی کے قتل کے کیس میں بن سلمان کے کردار پر پردہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ سعودی حکمران اپنے مخالفین کو خاموش کرنے کیلئے دہشتگردی پر اُتر آئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ خاشقچی کے قتل کے کیس میں بن سلمان کے ملوث ہونے سےبن سلمان کے کردارپر آہستہ آہستہ نقاب اُٹھ رہا ہے۔
واضح رہے کہ ا مریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقچی کے قتل کا حکم محمد بن سلمان نے دیا تھاسعودی صحافی جمال خاشقچی کے پراسرار قتل پر شکوک وشبہات کے پڑے پردے تا حال نہ اُٹھائے جا سکےلیکن ’’ واشنگٹن پوسٹ اور اے پی پی‘‘نے کہا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ محمد بن سلمان نے جمال خاشقچی کے قتل کا حکم دیاتاہم وائٹ ہاؤس، وزارت خارجہ اور سی آئی اے نے اس خبر پر اپنا مؤقف دینے سے انکار کیا ہے۔
ادھرترک میڈیا نے مقتول صحافی جمال خاشقچی سے متعلق دوسری آڈیو ٹیپ کا دعویٰ کیا ہےترک صدر طیب اردوغان اور صدر ٹرمپ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جمال خاشقچی کے قتل سے متعلق کسی بھی جانب سے حقائق نہیں چھپائے جانے چاہئے۔
دوسری جانب استنبول کے سعودی قونصل خانے میں بیدردی سے قتل کردیے جانے والے صحافی جمال خاشقچی کی غائبانہ نماز جنازہ مکہ، مدینہ، استنبول اور لندن میں ادا کردی گئی ہے۔